پالا پوسا
قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )
معنی
١ - چو پالے جانے کے بعد سیانا ہو گیا ہو۔ "آخر تمھارا ارادہ کیا ہے، کیا کوئی پالا پوسا بچہ جننا چاہتی ہو۔" ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ١١:٧ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ اسم 'پالا' کے ساتھ سنسکرت صفت 'پوسنا' سے حالیہ تمام 'پوسا' پر مشتمل مرکب اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٤٧ء کو "مضامین فرحت" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - چو پالے جانے کے بعد سیانا ہو گیا ہو۔ "آخر تمھارا ارادہ کیا ہے، کیا کوئی پالا پوسا بچہ جننا چاہتی ہو۔" ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ١١:٧ )